ممبئی ،30/اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی) مہاراشٹر کے لاتور میں مبینہ گاؤ رکھشکوں کی جانب سے ایک مسلمان ڈرائیور کو سر پر ٹوپی پہن کر گائے کے سامنے جھکنے پر مجبور کرنے کی واردات منظر عام پر آئی ہے۔ اور اس تعلقے ایک وڈیو بھی سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ ہجوم نے متاثرہ شخص کو خوب مار پیٹ کررہے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت وہاں پولیس اہلکار موجود تھے۔سر پر ٹوپی پہننے اور گائے کے سامنے جھکنے پر مجبور کرنے کے ویڈیو سوشیل میڈیا پر منظر عام پر آنے کے بعد لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق لاتور کے ایس پیسومے منڈے نے دو کانسٹیبلز اور تین ہوم گارڈز کے خلاف کارروائی کی ہے جو مبینہ طور پر حملہ کے وقت موجود تھے۔
پولیس تھانہ میں درج شکایت میں ڈرائیور پر حملہ کرنے والے گاؤ رکھشکوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈرائیور 23/اپریل کو پٹودہ کی جانوروں کی منڈی سے جملہ 15مویشی ایک منی ٹرک میں اوسا منڈی لے جارہا تھا۔اس کے پاس مویشیوں کی تجارت کیلئے تمام ضروری قانونی کاغذات موجود تھے لیکن منڈی پہنچنے سے پہلے ہی اسے روک لیا گیا۔ پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ قانونی دستاویزات کے باوجود ڈرائیور کے خلاف جانوروں پر ظلم کرنے کا الزما عائد کرکے ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔